سنن النسائي - حدیث 2258

كِتَابُ الصِّيَامِ بَاب مَا يُكْرَهُ مِنْ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ صحيح أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ ابْنَ كَثِيرٍ عَلَيْهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2258

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل سفر میں روزہ کھنا مکروہ ہے؟ حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔‘‘ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ غلط ہے، درست اس سے پہلی (سند) ہے۔ ہمارے علم میں نہیں ہے کہ اس پر کسی نے ابن کثیر کی متابعت کی ہو۔ (۱) اس روایت میں سند کی غلطی ہے، یعنی روایت کا سعید بن مسیب سے مرسلاً مروی ہونا خطا ہے۔ درست صحابی کے ذکر کے ساتھ ہے۔ (۲)یہ روایت مختصر ہے، لہٰذا غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ شاید سفر میں روزہ رکھنا اچھا نہیں، حالانکہ رسول اللہﷺ خود سفر میں روزے رکھتے رہے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے سامنے سفر میں روزے رکھتے تھے۔ دراصل اس روایت کا ایک خاص محل ہے اور وہ یہ کہ جب روزہ مسافر کے لیے انتہائی مشقت کا باعث ہو اور روزے دار دوسرے کے لیے بوجھ اور مصیبت بن جائے، وہ اسے اور اس کے کام کاج کو سنبھالتے پھریں تو ایسا روزہ واقعتا نیکی نہیں۔ لیکن اگر مسافر اسانی سمجھتا ہو اور روزہ دار برداشت کر سکے، اپنا کام خود کرے، دوسرے کے لیے پریشانی اور بوجھ کا سبب نہ بنے تو ایسے شخص کے لیے سفر میں روزہ رکھنا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے۔ آئندہ باب وحدیث میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ غرض جو صورت بھی انسان کے لیے باعث سہولت اور آرام دہ ہو، اسے ہی اپنانا افضل ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے۔ (ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائ: ۲۱/ ۱۳۴-۱۴۱)