سنن النسائي - حدیث 2238

كِتَابُ الصِّيَامِ ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ فِي فَضْلِ الصَّائِمِ صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلصَّائِمِينَ بَابٌ فِي الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ لَا يَدْخُلُ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ مَنْ دَخَلَ فِيهِ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2238

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل روزے کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں محمد بن یعقوب کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ’ض’جنت میں روزے داروں کے لیے ایک دروازہ مخصوص ہے جسے ’’ریان‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں ان کے علاوہ کوئی اور داخل نہ ہوگا۔ جب آخری روزے دار داخل ہو جائے گا تو دروازہ بند کر دیا جائاے گا۔ جو شخص اس میں داخل ہوگا پیے گا اور جس نے ایک دفعہ پی لیا، کبھی پیاسا نہ ہوگا۔‘‘ (۱) اس روایت میں روزے داروں سے مراد نفلی روزے کے عادی لوگ ہیں کیونکہ فرض روزے دار تو سب مسلمان ہی ہیں۔ (۲) مخصوص دروازہ روزے داروں کو امتیاز عطا کرنے کے لیے ہے، جیسے مہمان خصوصی کے داخلے لیے دروازہ مخصوص کر دیا جاتا ہے۔ (۳) ’’ریان‘‘ معنی ہیں: سیرابی والا دروازہ۔ گویا اس دروازے سے داخل ہوتے ہی سیرابی حاصل ہوگی، چاہے دخول سے یا پینے سے۔ جبکہ باقی دروازوں کے ذریعے داخل ہونے والوں کو جنت کے اندر پانی ملے گا۔ (۴) ’’کبھی پیاسا نہ ہوگا۔‘‘ بعد میں پانی پینا لذت کے لیے ہوگا نہ کہ پیاس دور کرنے کے لیے۔ ان کی یہ فضیلت، اس لیے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پیاسے رہے۔ روزے میں پیاس ہی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔