سنن النسائي - حدیث 2191

كِتَابُ الصِّيَامِ صِيَامُ يَوْمِ الشَّكِّ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ أَبِي يُونُسَ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ مِنْ رَمَضَانَ هُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلًا وَلَبَنًا فَقَالَ لِي هَلُمَّ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ قَالَ وَحَلَفَ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ يَحْلِفُ لَا يَسْتَثْنِي تَقَدَّمْتُ قُلْتُ هَاتِ الْآنَ مَا عِنْدَكَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابَةٌ أَوْ ظُلْمَةٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ عِدَّةَ شَعْبَانَ وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا وَلَا تَصِلُوا رَمَضَانَ بِيَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2191

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل شک والے دن کا روزہ رکھنا حضرت سماک سے روایت ہے کہ میں حضرت عکرمہ کے پاس ایسے دن گیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ شعبان کا دن ہے یا رمضان المبارک کا؟ آپ روٹی، سبزی اور دودھ تناول فرما رہے تھے۔ مجھے کہنے لگے: آؤ (کھانا کھاؤ)۔ میں نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ تجھے ضرور روزہ چھوڑنا پڑے گا۔ میں نے کہا: سبحان اللہ! دو دفعہ (میں نے ایسا کہا) جب میں نے دیکھا کہ وہ ان شاء اللہ پڑھے بغیر قسم کھا رہے ہیں تو میں آگے بڑھا اور عرض کیا: لائیے! جو آپ کے پاس ہے۔ (کھانا یا دلیل) انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند دیکھ کر روزے رکھنے بند کرو۔ اگر بادل رکاوٹ بن جائے یا اندھرا چھا جائے۔ (اور چاند نظر نہ آئے) تو شعبان کے تیس دن پورے کرو۔ اور رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو اور رمضان المبارک کو شعبان کے دن سے (روزہ رکھ کر) نہ ملاؤ۔‘‘ (۱) ’’لائیے جو آپ کے پاس ہے۔‘‘ زیادہ درست یہ ہے کہ جب انہوں نے حضرت عکرمہ کو اتنے جزم ویقین سے قسم کھاتے دیکھا تو وہ کھانا کھانے پر آمادہ ہوگئے کیونکہ انہیں یقین ہوگیا کہ آج واقعتا روزہ رکھنا درست نہیں، اس لیے کہا: لائیے کھانا۔ دوسرے معنی بھی مراد ہو سکتے ہیں کہ آپ جو اس قدر پختہ اور تاکیدی قسم کھا رہے ہیں، کوئی دلیل بھی دیجئے۔ واللہ اعلم (۲) شعبان کی تیس تاریخ کو شک نہ بھی ہو، تب بھی روزہ رکھنا منع ہے۔ اسی طرح انتیس تاریخ کو بھی منع ہے کیونکہ اس طرح رمضان اور شعبان کے روزے مل جائیں گے جبکہ آپ نے منع فرمایا ہے۔ الا یہ کہ کسی شخص کو کسی مخصوص دن، مثلاً: سوموار یا جمعرات کو روزہ رکھنے کی عادت ہو اور وہ دن اس تاریخ کو آجائے جیسا کہ پیچھے گزرا ہے۔