سنن النسائي - حدیث 2190

كِتَابُ الصِّيَامِ صِيَامُ يَوْمِ الشَّكِّ صحيح أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ عَنْ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ صِلَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ فَقَالَ كُلُوا فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عَمَّارٌ مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2190

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل شک والے دن کا روزہ رکھنا حضرت صلہ سے مروی ہے کہ ہم حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ان کے پاس بھنی ہوئی (سالم) بکری لائی گئی۔ انہوں نے (حاضرین سے) فرمایا: کھاؤ۔ لیکن کچھ لوگ ایک طرف ہوگئے اور کہنے لگے: ہمارا روزہ ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے شک والے دن کا روزہ رکھا اس نے حضرت ابوالقاسمﷺ کی نافرمانی کی۔ (۱) مذکورہ روایت کو مہقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے، محققین کی بحث سے راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہو جاتی ہے۔ واللہ اعلم! مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائی: ۲۱/ ۳۱-۳۸) (۲) ’’شک والے دن‘‘ سے مراد شعبان کی تیس تاریخ ہے کیونکہ اس دن امکان ہوتا ہے کہ شاید رمضان المبارک کی پہلی تاریخ ہو۔ بعض لوگ اس دن چاند نظر آئے بغیر احتیاطاً روزہ رکھ لیتے ہیں کہ شاید چاند طلوع ہوگیا ہو، مگر یہ احتیاط شریعت حقہ کی نافرمانی ہے۔ (مزید دیکھئے، حدیث: ۲۱۱۸- ۲۱۲۷) (۳) ’’ابوالقاسم‘‘ رسول اللہﷺ کی کنیت ہے۔ کبھی کبھار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کو نام کے بجائے اس کنیت سے پکارتے تھے۔ عموماً رسول اللہ اور نبی اللہﷺ وغیرہ جلیل القدر الفاظ سے یاد کرتے تھے۔ (۴) ’’اس نے ابوالقاسمﷺ کی نافرمانی کی۔‘‘ جس روایت میں صحابی اس قسم کے الفاظ کہے وہ حکماً مرفوع ہوتی ہے