سنن النسائي - حدیث 2184

كِتَابُ الصِّيَامِ ذِكْرُ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَائِشَةَ فِيهِ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2184

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا بیان حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ میں تو نہیں جانتی کہ رسول اللہﷺ نے کبھی ایک رات میں مکمل قرآن مجید پڑھا ہو یا کسی رات (شروع سے آخر تک) مسلسل نماز پڑھتے رہے ہوں یا رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے رکھے ہوں۔ صحیح طریقہ اور سنت بھی یہی ہے کیونکہ عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے جسم اور دیگر متعلقات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ فرائض کی مکمل پابندی اور نوافل میں سہولت اور نشاط اور دوسرے فرائض کا لحاظ رکھنا ہی صحیح دین ہے۔ نفلی عبادت میں اعتدال انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرائض میں بھی اعتدال رکھا ہے۔ انتہا پسندی نقصان دہ ہے۔