سنن النسائي - حدیث 2180

كِتَابُ الصِّيَامِ الِاخْتِلَافُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فِيهِ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ ابْنَ الْهَادِ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَ حَتَّى يَدْخُلَ شَعْبَانُ وَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا يَصُومُ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2180

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل اس روایت میں محمد بن ابراہیم کے شاگردوں کا اختلاف(کہ بعض نے اسے حضرت ام سلمہ کی طرف منسوب کیا ہے اور بعض نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی طرف) حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ہم ازواجِ مطہرات میں سے کسی ایک کو رمضان المبارک کے کچھ روزے (حیض کی بنا پر) چھوڑنے پڑتے تھے، وہ ان کی قضا نہیں دے سکتی تھی حتیٰ کہ ماہ شعبان آجاتا۔ رسول اللہﷺ کسی مہینے میں اتنے روزے نہ رکھتے تھے جتنے شعبان میں رکھتے تھے، صرف چند دن چھوڑ کر باقی روزے رکھتے تھے بلکہ (یہی کہہ لیجئے کہ) سارا مہینہ ہی روزے رکھتے تھے۔ ’’قضا نہیں دے سکتی تھی۔‘‘ اس خطرے کی بنا پر کہ ایسا نہ ہو رسول اللہﷺ کو ہماری ضرورت محسوس ہو اور ہم روزے سے ہوں کیونکہ آپ ہر روز عصر کے بعد یا کسی اور وقت میں سب ازواج مطہراتؓ کے گھروں میں جاتے تھے۔ باری کا تعلق تو صرف رات کی حد تک تھا دن کو آپ کسی گھر میں بھی جا سکتے تھے۔