سنن النسائي - حدیث 2173

كِتَابُ الصِّيَامِ كَيْفَ الْفَجْرُ صحيح أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنَا سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي مُعْتَرِضًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبَسَطَ بِيَدَيْهِ يَمِينًا وَشِمَالًا مَادًّا يَدَيْهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2173

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل طلوع فجر کیسے ہوگا؟ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بلال کی اذان اور اس سفیدی (فجر کاذب) سے تمہیں دھوکا نہ لگے حتیٰ کہ فجر اس طرح دائیں بائیں پھیل جائے۔‘‘ ابوداؤد (راوی) نے کہا: اور اس (استاد شعبہ) نے اپنے دونوں ہاتھ کھول کر دائیں بائیں کھینچ کر پھیلائے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان نہ تو تہجد کے لیے تھی کیونکہ نفل نماز کے لیے اذان نہیں اور نہ سحری کے لیے کیونکہ اذان نماز کے لیے ہوتی ہے، کھانے پینے کے لیے نہیں، بلکہ فجر کی نماز کے لیے ہی ہوتی ہے لیکن وقت سے کچھ پہلے، البتہ اس اذان سے کوئی شخص تہجد یا سحری کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، جیسے مغرب کی اذان سے افطاری کا فائدہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ کے دور میں اگرچہ ان دو اذانوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہوتا تھا مگر چونکہ یہ فاصلہ مقرر نہیں، لہٰذا یہ زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔