سنن النسائي - حدیث 2172

كِتَابُ الصِّيَامِ كَيْفَ الْفَجْرُ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ وَيُرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ بِكَفِّهِ وَلَكِنْ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَتَيْنِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2172

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل طلوع فجر کیسے ہوگا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ’’بلال رات کو اذان کہتے ہیں تاکہ سوئے ہوؤں کو جگائیں اور جاگے ہوؤں کو لوٹائیں اور فجر اس طرح نہیں ہوتی۔‘‘ اور آپ نے اپنی ہتھیلی سے (اوپر نیچے) اشارہ کیا۔ ’’بلکہ فجر اس طرح ہوتی ہے۔‘‘ اور آپ نے اپنی دونوں ہتھیلی سے (اوپر نیچے) اشارہ کیا۔ ’’بلکہ فجر اس طرح ہوتی ہے۔‘‘ اور آپ نے اپنی دونوں انگشت شہادت سے دائیں بائیں اشارہ فرمایا۔ (۱) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان، فجر سے کچھ پہلے ہوتی تھی تاکہ لوگ جلدی اٹھ کھڑے ہوں اور بروقت مصروفیات سے فارغ ہو کر جماعت میں مل سکیں کیونکہ یہ قضائے حاجت اور غسل وغیرہ کا وقت ہوتا ہے۔ اگر عین طلوع فجر پر اٹھیں تو جماعت سے رہ جائیں گے۔ دوسری اذان میں عین طلوع فجر کے بعد ہوتی تھی۔ (بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غالباً اسی پر قیاس کرتے ہوئے جمعۃ المبارک کی بھی دو اذانیں جاری فرمائیں)۔ (۲) ’’جاگے ہوؤں کو لوٹائیں۔‘‘ یعنی وہ نماز تہجد کو مختصر کر کے کچھ آرام کر لیں تاکہ فجر کی نماز میں سستی لاحق نہ ہو۔ (۳) ’’فجر ایسے نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جب صرف چند شعاعیں نیچے سے اوپر کو اٹھتی ہوئی محسوس ہوں تو وہ فجر نہیں ہے۔ اسے فجر کاذب کہا جاتا ہے۔ (۴) ’’فجر ایسے ہوتی ہے۔‘‘ یعنی جب شعاعیں زیادہ ہو جائیں اور افق پر پھیل جائیں اور افق واضح طور پر روشن نظر آنے لگے۔ اسے صبح صادق کہتے ہیں۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان کہتے تھے اور اسی اذان سے نماز فجر اور روزے کا آغاز ہوتا تھا۔