سنن النسائي - حدیث 2170

كِتَابُ الصِّيَامِ تَأْوِيلُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى{ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنْ الْفَجْرِ } صحيح أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ إِذَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَتَعَشَّى لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ شَيْئًا وَلَا يَشْرَبَ لَيْلَتَهُ وَيَوْمَهُ مِنْ الْغَدِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا إِلَى الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ قَالَ وَنَزَلَتْ فِي أَبِي قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو أَتَى أَهْلَهُ وَهُوَ صَائِمٌ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَقَالَ هَلْ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ وَلَكِنْ أَخْرُجُ أَلْتَمِسُ لَكَ عَشَاءً فَخَرَجَتْ وَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ فَوَجَدَتْهُ نَائِمًا وَأَيْقَظَتْهُ فَلَمْ يَطْعَمْ شَيْئًا وَبَاتَ وَأَصْبَحَ صَائِمًا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ هَذِهِ الْآيَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2170

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل اللہ تعالیٰ کے فرمان:کھاؤ اور پیو حتی کہ تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح (روشن) ہو جائے۔‘‘کا مطلب حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ (شروع شروع میں) مسلمانوں میں سے کوئی شخص جب رات کو کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تھا تو اس کے لیے کچھ بھی کھانا پینا جائز نہ ہوتا تھا، نہ اس رات اور نہ اگلے دن حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے۔ (یہی صورت حال رہی) حتیٰ کہ یہ آیت اتری: {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا… مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ} ’’کھاؤ اور پیو حتیٰ کہ تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضہ (روشن) ہو جائے۔‘‘ یہ آیت حضرت ابو قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری۔ وہ مغرب کی نماز کے بعد گھر والوں کے پاس آئے، ان کا روزہ تھا۔ کہنے لگے: کوئی کھانے کی چیز ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: کھانے کی کوئی چیز بھی نہیں لیکن میں جا کر کھانا تلاش کرتی ہوں۔ وہ باہر چلی گئیں اور وہ لیٹ گئے، انہیں نیند آگئی۔ وہ واپس آئیں تو انہیں سوتے ہوئے پایا۔ انہیں جگایا لیکن وہ کچھ نہ کھا سکے، اسی طرح رات گزاری۔ اگلی صبح پھر روزہ تھا حتیٰ کہ دوپہر ہوئی تو وہ بے ہوش ہوگئے۔ اور یہ اس آیت کے اترنے سے پہلے کی بات ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان کے بارے میں اتاری۔ شروع میں مسلمان بھی اہل کتاب کی طرح شام سے شام تک روزہ رکھتے تھے، یا تو ان کی نقل کرتے ہوئے یا شاید رسول اللہﷺ نے ایسا حکم دیا ہو۔ جب چند لوگوں کو مندرجہ بالا یا اس سے ملتی جلتی صورت حال پیش ائی تو رعایت کر دی گئی۔ اور روزہ صبح سے شام تک ہوگیا۔ رات کو کھانا پینا اور بیوی سے حق زوجیت ادا کرنا جائز ہوگیا۔