سنن النسائي - حدیث 2160

كِتَابُ الصِّيَامِ ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ فِي تَأْخِيرِ السُّحُورِ وَاخْتِلَافِ أَلْفَاظِهِمْ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ فِينَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ السُّحُورَ قَالَتْ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ السُّحُورَ قُلْتُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَتْ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2160

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل تاحیر سحری کی بابت حضرت عائشہ کی سند میں سلیمان بن مہران کے شاگردوں کا اختلاف اور ان کے لفظی اختلاف کا ذکر حضرت ابو عطیہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا: ہم میں نبیﷺ کے دو صحابی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک روزہ جلدی (آفتاب غروب ہوتے ہی) کھولتے ہیں اور سحری تاخیر سے (آخر وقت میں) کھاتے ہیں اور دوسرے صحابی (احتیاطاً) افطار دیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی کھا لیتے ہیں۔ وہ فرمانے لگیں: ان میں سے افطار اول وقت اور سحری آخر وقت کرنے والا کون ہے؟ میں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ کا معمول بھی یہی تھا۔ دوسرے صحابی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے، وہ احتیاطاً افطار میں دیر اور سحری میں جلدی فرماتے تھے، مگر احتیاط اتنی لمبی نہیں چاہیے کہ مسنون عمل میں تبدیلی آجائے، احتیاط تو چند منٹ کی ہوتی ہے، البتہ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ سورج غروب ہونے کا یقین کیے بغیر جلدی روزہ کھول لیا جائے یا صبح کی اذان کے دوران میں بھی سحری کھانے کی عادت ڈال لی جائے۔ کیونکہ اس طرح روزہ ضائع ہو سکتا ہے۔ بعض جلد باز حضرات غلط سلط کلینڈروں کو دیکھ کر سیکنڈوں کے حساب سے روزہ کھولتے ہیں، حالانکہ ضروری ہے کہ کلینڈر محکمہ موسیمات اور صدگاہوں کے ماہرین کا تصدیق شدہ ہو یا پھر کلینڈر کو سورج دیکھ کر مصدقہ بنا لیا جائے۔ کلینڈروں میں دوسرے شہروں کے اوقات میں فرق یکساں نہیں ہوتا، مثلاً: لاہور سے فیصل آباد کا فرق کسی کلینڈر میں دس منٹ، کسی میں نوی، کسی میں آٹھ، کسی میں چھ، کسی میں پانچ منٹ لکھا ہوتا ہے، لہٰذا کلینڈر کی رو سے روزہ افطار کرنے والے حضرات غیر معیاری کلینڈروں سے اپنا روزہ ضائع نہ کریں۔ جب تک غروب کا یقین نہ ہو، روزہ نہیں کھولنا چاہیے۔ یقین سے مراد آنکھوں سے سورج عین افق میں غروب ہوتا دیکھنا ہے، جبکہ مطلع صاف ہو۔ یا پھر سب سے آخری کلینڈر پر عمل کرنا ہے۔ اس طرح تین چار منٹ کی تاخیر سے اول وقت افطار گزر نہیں جائے گا۔ تاخیر (جو مکروہ ہے) سے مراد ستارے نظر آنے کا انتظار ہے جو یہودی کرتے ہیں نہ کہ غروب کے یقین کا انتظار۔ افسوس! کہ آج کل تو مقابلے میں اذانیں کہی جاتی ہیں کہ جلدی اذان کہو، کہیں فلاں مسجد کی اذان ہم سے پہلے یا ہمارے برابر نہ ہو جائے۔ اس طرح لوگوں کے روزے خراب کیے جاتے ہیں۔ جو یقینا گناہ ہے اور جلدی کے شوق میں کیا جاتا ہے۔ واللہ المستعان