سنن النسائي - حدیث 2090

كِتَابُ الْجَنَائِزِ فِي التَّعْزِيَةِ صحيح أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ يَجْلِسُ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ لَهُ ابْنٌ صَغِيرٌ يَأْتِيهِ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ، فَيُقْعِدُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَهَلَكَ فَامْتَنَعَ الرَّجُلُ أَنْ يَحْضُرَ الْحَلْقَةَ لِذِكْرِ ابْنِهِ، فَحَزِنَ عَلَيْهِ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَالِي لَا أَرَى فُلَانًا؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بُنَيُّهُ الَّذِي رَأَيْتَهُ هَلَكَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ بُنَيِّهِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ هَلَكَ، فَعَزَّاهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا فُلَانُ، أَيُّمَا كَانَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ تَمَتَّعَ بِهِ عُمُرَكَ، أَوْ لَا تَأْتِي غَدًا إِلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ يَفْتَحُهُ لَكَ»، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَيَفْتَحُهَا لِي لَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ، قَالَ: «فَذَاكَ لَكَ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2090

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل تعزیت کابیان حضرت قرہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے تو آپ کے ساتھ آ پ کے صحابہ میں سے کچھ نہ کچھ لوگ بیٹھا کرتے تھے۔ ان میں ایک شخص تھا جس کا ایک معصوم بیٹا تھا۔ وہ پیچھے سے آتا تو باپ اسے اپنے آگے بٹھا لیتا تھا۔ اتفاقاً وہ بچہ فوت ہوگیا تو وہ شخص اپنے بیٹے کی یاد میں (کئی روز تک) آپ کی مجلس میں حاضر نہ ہوا کیونکہ اسے اس (کی وفات) کا شدید غم تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (کئی دن) نہ دیکھا تو فرمایا: ’’کیا وجہ ہے کہ فلاں شخص نظر نہیں آتا؟‘‘ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا وہ چھوٹا سا بچہ جو پ نے بھی دیکھا تھا، فوت ہوگیا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص سے ملے اور اس کے بیٹے کے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ تو فوت ہوچکا ہے۔ آپ نے اسے تسلی دی۔ آپ نے فرمایا: ’’اے شخص! تجھے کون سی چیز زیادہ پسند ہے کہ تو اپنی ساری عمر اس سے فائدہ اٹھاتا (آنکھیں ٹھنڈی کرتا) یا یہ کہ تو جنت کے جس دروازے کے پاس بھی جائے، اسے وہاں پائے کہ وہ تجھ سے پہلے پہنچ کر اسے تیر لیے کھول دے؟‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ مجھ سے پہلے جاکر میرے لیے جنت کا دروازہ کھولے۔ آپ نے فرمایا: ’’بس! یہ چیز تجھے مل جائے گی۔‘‘ (۱) لیکن یہ تب ہے جب کوئی شخص اپنے نابالغ بچے کی موت پر صبر کرے اور ثواب کا طالب ہو۔ دراصل یہ صبر کا ثواب ہے جو اسے جنت میں داخل کرنے کا سبب بنے گا۔ اس کا ظہور اس طرح ہوگا کہ وہ بچہ اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول کر اس کا استقبال کرے گا۔ بچہ خود تو معصوم ہونے کی وجہ سے قطعاً جنتی ہے۔ (۲) چھوٹے بچوں کو بھی مجالس علم میں لے جانا چاہیے۔