سنن النسائي - حدیث 2085

كِتَابُ الْجَنَائِزِ الْبَعْثُ صحيح أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا»، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ؟ قَالَ: {لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ} [عبس: 37]

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2085

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل (قیامت کے دن )قبروں سے اٹھایا جانا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنوں کے (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: شام گاہوں کا کیا بنے گا؟ آپ نے فرمایا: (لکل امریء منھم یومئذ شان بغنیہ) ’’ہر شخص کی اس دن ایسی حالت ہوگی جو اسے (ہر چیز سے) بے نیاز کر دے گی۔‘‘ یعنی اس قدر دہشت اور خوف ہوگا کہ کسی شخص کو ادھر ادھر دیکھنے کا ہوش ہی نہ ہوگا جیسے حادثات وغیرہ کے موقع پر ہوتا ہے۔ قیامت تو سب سے عظیم حادثہ ہے جس کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔