سنن النسائي - حدیث 2081

كِتَابُ الْجَنَائِزِ أَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ صحيح - أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ حَتَّى حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ، قَالَ: فَفَعَلَ أَهْلُهُ ذَلِكَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ شَيْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا: أَدِّ مَا أَخَذْتَ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: خَشْيَتُكَ، فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2081

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل مو منین کی روحیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ’’ایک آدمی نے اپنے آپ پر بہت ظلم کیا تھا (بہت گناہ کیے تھے) حتی کہ اس کی وفات کا وقت آگیا۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری ہڈیوں کو پیس لینا، پھر ہوا والے دن میری راکھ سمندر میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہ دیا ہوگا۔ اس کے گھر والوں نے ایسے ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر اس چیز کو، جس میں اس کے جسم کا کوئی حصہ تھا، حکم دیا کہ جو کچھ تجھ میں اس کا حصہ ہے، نکال دے۔ تو ناگہاں وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پو رے کا پورا کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو کچھ تو نے کیا، کس بنا پر کیا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر کی بنا پر۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔‘‘ (۱) ’’مجھے پکڑ لیا‘‘ اس نے سمجھا کہ اس طریقے سے جسم کو بظاہر ختم کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ مجھے پکڑ نہ سکے گا، مگر یہ اس کی نادانی تھی کیونکہ اس طریقے سے بھی جسم کی شکل و صورت تو بدل سکتی ہے کہ وہ گوشت اور ہڈیوں سے راکھ بن گیا مگر ختم تو نہ ہوسکے گا، راکھ تو موجود ہی ہے۔ (۲) ’’معاف کر دیا‘‘ اس کی جہالت کو عذر قرار دیا، نیز اس کی نیت تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے ہی کی تھی اگرچہ طریقہ غلط تھا۔ معلوم ہوا عمل کے بجائے نیت کا اعتبار زیادہ ہوتا ہے۔ نیت غلط ہو اور عمل صحیح تو عمل غیر معتبر ہوتا ہے، جیسے دکھلاوے کی نماز، لیکن اگر نیت صحیح ہو، عمل غلط ہو جائے تو ثواب مل جاتا ہے، جیسے حق کی تلاش کرنے والے مجتہد کو حق نہ بھی مل سکے تب بھی وہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ (۳) حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کافر نہ تھا، قابل معافی تھا ورنہ کفر اور شرک تو کسی صورت بھی معاف نہیں ہوسکتا۔ گناہوں کا احساس اور خوف بھی ایمان کی علامت ہے۔ (۴) موت کے بعد اٹھنے کا اثبات ہوتا ہے۔ (۵) اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت معلوم ہوتی ہے۔ (۶) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی فضیلت کا پتا چلتا ہے۔ (۷) اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔