سنن النسائي - حدیث 2073

كِتَابُ الْجَنَائِزِ وَضْعُ الْجَرِيدَةِ عَلَى الْقَبْرِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُعْرَضُ عَلَى أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، قِيلَ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2073

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل قبر پر شاخ رکھنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس پر اس کا ٹھکانا صبح شام پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہو تو جنتی ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے اور اگر وہ جہنمی ہو تو جہنمی ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانا ہے حتی کہ تجھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے اٹھائے۔‘‘ بات ہر جنتی اور جہنمی میت سے کہی جاتی ہے۔ یہاں صرف جہنمی کا ذکر ہے۔ یہ غالباً کسی راوی کا اختصار ہے، ورنہ دوسری روایات میں اہل جنت اور اہل نار دونوں کا ذکر ہے۔ اس حدیث کی بھی باب سے مناسبت واضح نہیں ہے کیونکہ اس میں بھی چھڑیاں رکھنے کا ذکر مفقود ہے۔