سنن النسائي - حدیث 2070

كِتَابُ الْجَنَائِزِ وَضْعُ الْجَرِيدَةِ عَلَى الْقَبْرِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ مَكَّةَ أَوِ الْمَدِينَةِ سَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ»، ثُمَّ قَالَ: «بَلَى، كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ»، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2070

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل قبر پر شاخ رکھنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ’’ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور یہ عذاب کسی بڑے کام کے بارے میں نہیں ہو رہا۔ ان میں سے ایک شخص تو اپنے پیشاب سے بچتا نہ تھا اور دوسرا چغلیاں کھایا کرتا تھا۔‘‘ پھر آپ نے کھجور کی ایک تازہ شاخ لی، اسے چیر کر دو حصے کیے اور پھر ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسے کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: ’’مجھے امید ہے جب تک یہ خشک نہیں ہوں گی، ان سے عذاب میں تخفیف رہے گی۔‘‘ (۱) ’’وہ بڑی ہی ہے۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے یہ کوئی مشکل اور بھاری کام نہ تھا، جبکہ حقیقتاً تھا وہ کبیرہ گناہ ہی۔ (۲) ’’پیشاب سے نہ بچتا۔‘‘ (یعنی وہ شخص چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا۔ (۳) ’’چغلیاں‘‘ باہمی لڑائی اور فساد ڈالنے کے لیے ادھر کی بات ادھر اور ادھر کی ادھر پہنچانا، چاہے وہ سچ ہی ہو۔ یہ بھی گناہ کبیرہ ہے کیونکہ فساد سے بری کوئی چیز نہیں۔ دروغ مصلحت آمیز بہ، از راستیٔ فتنہ انگیز۔ ’’جس سچ سے فساد بڑھے اس سے وہ مصلحت آمیز جھوٹ، جس سے فساد مٹے، بہتر ہے۔‘‘ (۴) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان قبروں پر چھڑیاں رکھنا آپ کی فعلی شفاعت ہے کہ یا اللہ! ان کے خشک ہونے تک ان سے عذاب رک جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھی چھڑیاں رکھنا شروع کر دیں۔ اگر اس طرح چھیڑیاں رکھنے سے عذاب رک جاتا ہو تو پھر تو لوگ قبر پر درخت ہی لگا دیا کریں، وہ خشک ہو نہ عذاب شروع ہو۔ یہ تو سب سے آسان طریقہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فعل وحی کی بنیاد پر متعین وقت کے لیے کیا تھا، ورنہ چھیڑی کا عذاب کی تخفیف سے کوئی تعلق نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس واقعے کے علاوہ کبھی کسی قبر پر چھڑی نہیں رکھی۔ یہ آپ کا خاصہ تھا، سنت نہیں۔ اس حدیث سے بزرگوں کی قبروں پر پھول چڑھانے کے لیے استدلال کرنا عجیب ہے۔ اس استدلال کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ ان کا عمل یہ واضح کر رہا ہے کہ ان کے بزرگوں کو یا قبروں میں مدفون لوگوں کو عذاب ہو رہا ہے۔ ورنہ قبروں پر گل پاشی وغیرہ کرنے کا کیا جواز ہے؟