سنن النسائي - حدیث 2057

كِتَابُ الْجَنَائِزِ ضَمَّةُ الْقَبْرِ وَضَغْطَتُهُ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2057

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل قبر کا میت کو بھنیچنا اور زور سے دبانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے دفن کے وقت) فرمایا: ’’یہ شخص جس کے لیے عرش جھوم گیا، اس (کی روح) کے لیے آسمان کے تمام دروازے کھول دیے گئے اور اس کے جنازے پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے، وہ بھی بھینچ دیا گیا مگر پھر اسے چھوڑ دیا گیا۔‘‘ (۱) ’’جھوم گیا‘‘ یعنی ان کے استقبال کی خوشی میں۔ یہ معنی ان کی عظمت و شان پر دلالت کرتے ہیں۔ (۲) ’’بھینچا گیا‘‘ کیونکہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمی ہوتی ہے (علاوہ انبیاء علیہم السلام کے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں۔) اس بھینچنے سے وہ اس کمی کے اثر سے نجات پا لیتا ہے بشرطیکہ وہ مومن ہو۔ مومن کو صرف ایک دفعہ بھینچا جاتا ہے، پھر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر کچھ عجب نہیں کہ کافر پر یہ عذاب بار بار ہوتا ہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ قبر ہر ایک کو بھینچتی ہے، اگر اس سے کوئی محفوظ رہتا تو یقیناً حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ محفوظ رہتے۔ (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام أحمد: ۳۲۷/۴۰، رقم: ۲۴۲۸۳، والصحیحۃ: ۲۶۸/۴، رقم: ۱۶۹۵) (۲) اس کی توجیہ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ ’’قبر‘‘ انسان کے لیے ماں کی طرح ہے کیونکہ وہ اسی مٹی سے بنایا گیا تھا۔ عرصۂ دراز کے بعد ملنے والے بیٹے کو ماں خوب زور سے اپنے جسم کے ساتھ بھینچتی ہے، چاہے اسے اس سے تکلیف ہی ہو۔ قبر کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، البتہ نیک شخص کو وہ محبت سے بھینچتی ہے اور برے شخص کو غصے اور ناراضی سے۔ نیک کے لیے اس میں سرور ہے اور برے کے لیے عذاب۔ واللہ أعلم۔