سنن النسائي - حدیث 2020

كِتَابُ الْجَنَائِزِ مَنْ يُقَدَّمُ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا»، فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2020

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل ایک سے زیادہ ہونے کی صورت میں )کس میت کو آگے رکھا جائے)؟ حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن میرے والد شہید ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قبریں کھودو کشادہ کھودو، اور اچھی طرح کھودو۔ اور دو دو، تین تین کو ایک ایک قبر میں دفن کرو اور جس نے قرآن مجید زیادہ پڑھا ہو، اسے آگے رکھو۔‘‘ میرے والد تین میں سے ایک تھے (جو ایک ہی قبر میں دفن کیے گئے، یعنی ان کے ساتھ دو اور آدمی دفن کیے گئے۔) چونکہ وہ (میرے والد) قرآن مجید زیادہ پڑھے ہوئے تھے، لہٰذا انھیں (قبلے کی طرف) آگے رکھا گیا۔ علم انسان کا خاصہ ہے، لہٰذا انسانوں میں فضیلت کی بنیاد علم ہے۔ اور قرآن مجید اصل علم ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معیار فضیلت بنایا۔