سنن النسائي - حدیث 2005

كِتَابُ الْجَنَائِزِ أَيْنَ يُدْفَنُ الشَّهِيدُ ضعيف الإسناد أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَيَّةَ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الطَّائِفِ فَحُمِلَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَأَمَرَ أَنْ يُدْفَنَا حَيْثُ أُصِيبَا»، وَكَانَ ابْنُ مُعَيَّةَ وُلِدَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 2005

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل شہید کو کہاں دفن کیا جائے حضرت عبید اللہ بن معیہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: طائف کے دوران میں دو مسلمان شہید ہوئے تو ان کو اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے حکم دیا کہ انھیں وہیں دفن کیا جائے جہاں یہ شہید ہوئے۔ (راویٔ حدیث) حضرت ابن معیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے۔ (۱) راویٔ حدیث عبید اللہ بن معیہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ثابت نہیں، لہٰذا انھیں صحابی نہیں کہا جائے گا۔ بلکہ وہ جلیل القدر تابعی تھے۔ جب تابعی براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرے تو اس روایت کو مرسل کہتے ہیں اور مرسل روایت ضعیف ہوتی ہے، لیکن چونکہ مابعد کی حدیث جابر اس کی تائید کرتی ہے، یعنی اس کا شاہد ہے، اس لیے صححی ہے۔ (۲) یہ ضروری نہیں کہ میت کو عین اسی جگہ دفن کیا جائے جہاں وہ شہید ہو بلکہ اوقات یہ ممکن بھی نہیں ہوتا، مثلاً: جب اس جگہ دشمن کا قبضہ ہو، لہٰذا شہید کو کسی قریبی جگہ بھی دفن کیا جا سکتا ہے جیسا کہ شہدائے احد اکٹھے ایک جگہ دفن ہیں مگر ضروری نہیں کہ وہ سب کے سب اسی جگہ بلکہ اپنے اپنے مدفن میں ہی شہید ہوئے ہوں، البتہ یہ مناسب ہے کہ انھیں میدان شہادت یا اس سے قریب دفن کر دیا جائے۔ عام آبادی میں نہ لے جایا جائے۔ (۳) عمومی طور پر بھی اسلام میت کی منتقلی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، ہاں اشد ضرورت اور مجبوری ہو تو وفات کی جگہ سے منتقل ہو بھی سکتی ہے۔