سنن النسائي - حدیث 1993

كِتَابُ الْجَنَائِزِ فَضْلُ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ صحيح أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، رَضِيعِ عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً يَشْفَعُونَ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ»، قَالَ سَلَّامٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1993

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل جس شخص کے جنازے میں سو مسلمان ہوں‘اس کی فضیلت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس میت پر مسلمانوں کی ایک جماعت جنازہ پڑھے جو سو تک پہنچتے ہوں اور وہ اس کی (بخشش) کی سفارش کریں تو لازماً اس میت کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔‘‘ راویٔ حدیث سلام بن ابو مطیع بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ روایت حضرت شعیب بن حبحاب کو بیان کی تو وہ کہنے لگے: مجھے یہی روایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔ (۱) گویا یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی۔ (۲) ’’سفارش قبول کی جاتی ہے‘‘ بشرطیکہ وہ انسان قابل مغفرت ہو۔ یہ قید ہر ایسی روایت میں ملحوظ رہنی چاہیے