سنن النسائي - حدیث 1988

كِتَابُ الْجَنَائِزِ الدُّعَاءُ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيه، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1988

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل جنازے کی دعائیں حضرت ابو ابراہیم انصاری اپنے والد محترم سے بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک میت کے جنازے میں یوں دعا کرتے سنا: [اللھم! اغفر لحینا …… وکبیرنا] ’’اے اللہ! معاف فرما دے ہمارے فوت شدہ اور زندہ کو اور حاضر و غائب کو اور مذکر و مؤنث کو اور چھوٹے اور بڑے کو۔‘‘ (۱) حاضر و غائب سے مراد جنازے کے وقت حاضر و غائب بھی ہوسکتا ہے، یعنی جو جنازے میں موجود ہیں یا غائب ہیں۔ اور غائب سے مراد فوت شدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں حاضر سے مراد زندہ ہوگا۔ غائب سے مراد وہ افراد بھی ہوسکتے ہیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ اس صورت میں حاضر سے مراد زندہ اور پیدا شدہ لوگ ہوں گے۔ حاضر سے مراد موجود جنازہ بھی ہوسکتا ہے اور غائب سے مراد وہ ہوگا جو وہاں موجود نہیں ہے۔ اس سے جنازۂ غائبانہ کی مشروعیت بھی استنباط کی جا سکتی ہے۔ (۲) صغیر سے مراد نابالغ نہیں کہ وہ تو ویسے ہی مغفورلہ ہے بلکہ جو کسی دوسرے کے مقابلے میں چھوٹا ہے، خواہ بالغ ہی ہو۔ اسی طرح کبیر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو کسی دوسرے کے مقابلے میں بڑا ہو۔ ویسے بھی اس قسم کے الفاظ سے ظاہر معانی کے بجائے تعمیم مقصود ہوتی ہے، یعنی لائق مغفرت شخص کو بخش دے۔ یا بچے کے لیے رفع درجات کی دعا ہے کیونکہ اس کے گناہ تو ہوتے نہیں۔