سنن النسائي - حدیث 1981

كِتَابُ الْجَنَائِزِ اجْتِمَاعُ جنَائِزِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُكْتِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلَانٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ فِي وَسَطِهَا»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1981

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل مردوں اور عورتوں کے ایک سے زائد جنازے اکھٹے ہوجائیں تو؟ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام فلاں (ام کعب رضی اللہ عنہا) کا جنازہ پڑھا جو بچے کی پیدائش کے وقت فوت ہوگئی تھیں تو آپ ان کے درمیان میں (یعنی کمر کے برابر) کھڑے ہوئے۔ حدیث کا باب سے بظاہر کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔ واللہ أعلم۔