سنن النسائي - حدیث 1964

كِتَابُ الْجَنَائِزِ الصَّلَاةُ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ صحيح أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُوْمَسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيْتٍ فَسَأَلَ أَعَلَيْهِ دَيْنٌ قَالُوا نَعَمْ عَلَيْهِ دِينَارَانِ قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1964

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل مقروض شخص کا جنازہ؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس پر قرض ہوتا تھا۔ ایک میت آپ کے پاس لائی گئی۔ آپ نے پوچھا: ’’کیا اس پر قرض ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: جی ہاں! اس پر دو دینار قرض ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’پھر تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔‘‘ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ دو دینار میرے ذمے ہیں۔ آپ نے جنازہ پڑھ دیا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات دیں تو آپ نے فرمایا: ’’میں ہر مومن کے لیے اس کے نفس سے بھی بڑھ کر قریبی ہوں، لہٰذا جو قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے (یعنی بیت المال کے) ذمے ہے اور جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کو ملے گا۔‘‘