سنن النسائي - حدیث 1958

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَاب تَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمَرْجُومِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَنُوحُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِكَ جُنُونٌ قَالَ لَا قَالَ أَحْصَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ فَمَاتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1958

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل رجم شدہ شخص کا جنازہ نہ پڑھنا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو اسلم (قبیلے) کا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے زنا کرنے کا اعتراف کیا۔ آپ نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اس نے پھر اعتراف کیا۔ آپ نے پھر منہ موڑ لیا۔ اس نے پھر اعتراف کیا۔ آپ نے پھر منہ موڑ لیا حتی کہ اس نے اپنے خلاف چار دفعہ گواہی دی (کہ میں نے زنا کیا ہے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تجھے جنون تو نہیں؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’تو شادی شدہ ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے اسے جم کرنے کا حکم دیا۔ اسے رجم کیا جانے لگا لیکن جب اسے پتھروں نے تکلیف پہنچائی تو وہ بھاگ اٹھا، مگر اسے پکڑ لیا گیا اور پتھر مارے گئے حتی کہ وہ مر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں تعریفی کلمات فرمائے لیکن اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔ (۱) یہ شخص حضرت ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ (۲) ’’منہ موڑ لیا‘‘ اس میں اشارہ ہے کہ گناہ ہو جائے اور گواہ نہ ہوں تو اعتراف کے بجائے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی جائے اور توبہ کر لی جائے، توبہ بھی گناہ کو مٹا دیتی ہے، البتہ اگر وہ شخص قاضی کے سامنے زنا کا اعتراف کرلے یا اسے چار آدمی عین حالت زنا میں دیکھ لیں تو اس پر حد نافذ ہوگی۔ (۳) ’’جنون تو نہیں؟‘‘ معلوم ہوا مجنون پر حد نہیں ہے۔ (۴) ’’شادی شدہ ہے؟‘‘ شادی شدہ نہ ہو تو سزا کوڑے ہیں، رجم نہیں۔ (۵) ’’تعریفی کلمات کہے‘‘ کیونکہ اس نے سچی توبہ کرلی حتی کہ جان قربان کر دی۔ (۶) ’’جنازہ نہیں پڑھا‘‘ مگر دیگر روایات میں ہے کہ آپ نے جنازہ پڑھا۔ (صحیح البخاري، حدیث: ۶۸۲۰) دراصل اس وقت نہیں پڑھا تھا، دوسرے دن پڑھا تھا جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ابوقرہ کی سنن کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: (فتح الباري، حدیث: ۶۸۲۰-۱۳۱/۱۲) معلوم ہوا اس قسم کے شخص کا جنازہ پڑھا جائے گا مگر اہتمام کے ساتھ نہیں بلکہ چند لوگوں کے ساتھ پڑھ لیا جائے تاکہ مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو اور میت جنازے سے محروم بھی نہ رہے۔ (۷) جب تک پوری طرح بات واضح نہ ہو جائے، حد قائم نہیں کی جائے گی۔ (۸) امام اپنی طرف سے کسی کو حد لگانے کی ذمہ داری سونپ سکتا ہے۔