سنن النسائي - حدیث 195

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ غُسْلُ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ قَالَ إِذَا أَنْزَلَتْ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 195

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ عورت خواب میں وہی کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو اس پر غسل واجب ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورت کے بارے میں پوچھا جو خواب میں وہی کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو آپ نے فرمایا: ’’جب وہ پانی نکالے تو غسل کرے۔‘‘ خواب مرد اور عورت دونوں کو آسکتا ہے۔ خواب میں جماع والا عمل بھی نظر آ سکتا ہے مگر غسل تب واجب ہوتا ہے جب منی نکلے، خواہ مرد ہو یا عورت۔ اگر منی نہ نکلے تو، خواہ خواب میں اس نے مکمل جماع بھی کیا ہو، غسل واجب نہ ہوگا۔ اور اگر خواب کے بغیر بلاشہوت سوتے میں منی نکل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، مرد ہو یا عورت۔ گویا احتلام میں غسل کا سبب منی کا نکلنا ہی ہے، چاہے منی مرد کی نکلے یا عورت کی۔