سنن النسائي - حدیث 1941

كِتَابُ الْجَنَائِزِ الْأَمْرُ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ صحيح أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ح وَأَنْبَأَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ هَنَّادٌ قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَقَالَ سُلَيْمَانُ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَنُصْرَةِ الْمَظْلُومِ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَعَنْ الْمَيَاثِرِ وَالْقَسِّيَّةِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1941

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل جنازے کے ساتھ جانے کا حکم حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے روکا۔ ہمیں بیمار کی بیمار پرستی کرنے، چھینکنے والے کو دعا دینے، قسم کھانے والے کی بات کو پورا کرنے (بشرطیکہ وہ جائز ہو)، مظلوم کی مدد کرنے، ہر ملنے والے کو سلام کہنے، بلانے والے کی دعوت قبول کرنے اور جنازے کے ساتھ جنازے کا حکم دیا۔ اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے، چاندی کے برتن (میں کھانے پینے) سے، سرخ ریشمی گدیلوں، قس بستی کے بتے ہوئے ریشمی کپڑے اور موٹے یا باریک ہر قسم کے ریشم کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ ’’اتباع‘‘ جنازے کے ساتھ نکلنے کے دو درجے ہیں: جب گھر سے جنازہ اٹھایا جائے تو اس کے پیچھے پیچھے رہے یہاں تک کہ نماز جنازہ سے فارغ ہو۔ گھر سے میت کے ساتھ نکلے، یعنی اس کی پیروی کرے یہاں تک کہ نماز جنازہ اور تدفین سے فراغت ہو، یہ دونوں عمل درست اور جائز ہیں لیکن دوسرا درجہ قابل فضیلت اور زیادہ ثواب کا حامل ہے کیونکہ اس صورت میں دو قیراط کے بقدر ثواب ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں قسم کے عمل منقول ہیں۔ بہرحال راستے میں ملنے یا سیدھا قبرستان پہنچنے کی نسبت زیادہ ثواب کا حامل اور مسنون عمل یہ ہے کہ جہاں سے میت اٹھائی جائے وہاں سے چلنے کا اہتمام کیا جائے، احادیث میں بظاہر قیراط یا دو قیراط کا ثواب اسی قسم کی قیود کے ساتھ مشروط ہے جیسا کہ بخاری و مسلم وغیرہ کی احادیث میں بصراحت ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا [من خرج مع جنازۃ من بیتھا] ’’جو گھر سے جنازے کے ساتھ نکلا۔‘‘ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (أحکام الجنائز للألبانی، ص۸۸)