سنن النسائي - حدیث 193

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ الْغُسْلُ مِنْ الْمَنِيِّ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ وَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 193

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ منی خارج ہونے سے غسل حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ مجھے مذی بہت زیادہ آتی تھی تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم مذی دیکھو تو اپنے عضو (وغیرہ) کو دھو لو اور نماز والا وضو کرو لیکن جب تم زور سے منی نکالو تو غسل کرو۔‘‘ (۱) مذی کا مسئلہ تو پیچھے (حدیث ۱۵۲، ۱۵۳ کے تحت) گزر چکا ہے۔ ’’منی گاڑھا، لیس دار سفید پانی ہوتا ہے جو زور سے اچھل کر نکلتا ہے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں فضخ ’’اچھل کر نکلنے‘‘ کی قید موجود ہے، اس صورت میں شہوت بھی یقینی امر ہے، اس کے نکلنے سے شہوت ختم ہو جاتی ہے۔ (۲) حدیث: [الماء من الماء] ’’خروج منی سے غسل ہے‘‘ اگرچہ مطلق ہے اسے مقید حدیث پر محمول کیا جائے گا۔ (۳) منی کا نکلنا، خواہ جماع سے ہو یا احتلام سے یا ویسے شہوت سے، غسل کو واجب کر دیتا ہے، البتہ اگر کسی کو بغیر شہوت کے کسی بیماری کی بنا پر یا قضائے حاجت کے وقت زور لگانے سے منی نکل آئے تو جمہور اہل علم کے نزدیک غسل واجب نہیں ہوتا۔ لیکن احتلام میں جس طرح بھی منی خارج ہو جائے، شہوت سے یا گرمی سے، خواب یاد ہو یا نہ ہو، زور سے نکلے یا آرام سے، ہر حال میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک منی بیماری سے یا جیسے بھی نکلے، غسل واجب ہو جاتا ہے لیکن حدیث کے ظاہر الفاظ کے مقابلے میں یہ موقف محل نظر ہے۔ واللہ أعلم۔