سنن النسائي - حدیث 1908

كِتَابُ الْجَنَائِزِ الْإِذْنُ بِالْجَنَازَةِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَضِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي فَأُخْرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلًا وَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْهَا فَقَالَ أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ لَيْلًا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1908

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل جنازے کی اطلاع دینا حضرت ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک مسکین عورت بیمار ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکین لوگوں کی بیمار پرسی اور خبر گیری فرمایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب یہ فوت ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔‘‘ اس کا جنازہ رات کو لے جایا گیا اور صحابہ نے پسند نہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگائیں۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دی گئی۔ آپ نے فرمایا: ’’میں نے تمھیں کہا نہیں تھا کہ مجھے اس کی اطلاع دینا؟‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے رات کے وقت آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف چلے اور اس کی قبر پر لوگوں کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں۔ (یعنی جنازہ پڑھا۔) (۱) باب کا مسئلہ ثابت ہونے کے ساتھ ہی بھی ثابت ہوا کہ دوبارہ قبر پر جنازہ پڑھا جا سکتا ہے۔ احناف دوبارہ یا قبر پر جنازہ پڑھنے کے قائل نہیں ہیں الا یہ کہ میت کو بغیر جنازہ پڑھے دفن کر دیا گیا ہو۔ وہ اس حدیث کو بلادلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص سمجھتے ہیں۔ (۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں غایت درجے کی تواضع تھی کہ فقراء اور مساکین کی عیادت کے لیے ان کے گھر جاتے اور بیمار پرسی کرتے ……… صلی اللہ علیہ وسلم……… (۳) مرد عورت کی تیماری داری کرسکتا ہے، اسی طرح عورت بھی۔ (۴) ایسی حکم عدولی جس میں حکم دینے والے کی بھلائی اور تعظیم و تکریم مقصود ہو، گناہ شمار نہیں ہوگی۔ (۵) نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے تھے۔ (۶) رات کو دفن کرنا جائز ہے۔