سنن النسائي - حدیث 1905

كِتَابُ الْجَنَائِزِ كَيْفَ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ إِذَا مَاتَ صحيح أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوا الْمُحْرِمَ فِي ثَوْبَيْهِ اللَّذَيْنِ أَحْرَمَ فِيهِمَا وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحْرِمًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1905

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل جوشخص حالت احرام میں مر جائےتو اسے کفن دیاجائے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ’’محرم کو اس کے انھی دو کپڑوں میں غسل دو جن میں اس نے احرام باندھا تھا۔ اور اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو۔ اس کو انھی دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگائو اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ محرم فوت بھی ہو جائے، تب بھی اس کا احرام قائم رکھا جائے، یعنی اسے خوشبو لگائی جائے نہ اس کا سر ڈھانپا جائے، مگر احناف نے اس خاص اور صریح روایت کو چھوڑ کر ایک عام روایت: ’’جب انسان مر جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، الوصیۃ، حدیث: ۱۶۳۱) سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ محرم کو بھی عام انسان کی طرح غسل اور کفن دیا جائے، حالانکہ صحیح مسلم کی اس روایت سے کیسے معلوم ہوتا ہے کہ غسل اور کفن کے خصوصی احکام اس پر لاگو نہیں ہوسکتے؟ جبکہ شہید کے بارے میں خود احناف مانتے ہیں کہ شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا، اسی خون آلود حالت میں اسے دفن کیا جائے گا تو کیا اعتراض ہے اگر محرم کو احرام کی حالت میں دفن کر دیا جائے؟ کیا سب احادیث پر عمل ضروری نہیں؟ اگر شہید کا خاص حکم ہوسکتا ہے تو محرم کا کیوں نہیں؟ جبکہ حدیث صریح اور واضح ہے۔ احناف کہتے ہیں یہ حدیث اس محرم کے ساتھ خاص ہے جس کے بارے میں آپ نے یہ بیان فرمائی تھی، مگر پوچھا جا سکتا ہے کہ حضرت والا! شہید کو غسل نہ دینے والی حدیث شہدائے احد کے ساتھ خاص کیوں نہیں؟ بہرحال واضح حدیث کی موجودگی میں قیاس اور رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔