سنن النسائي - حدیث 1902

كِتَابُ الْجَنَائِزِ الْقَمِيصُ فِي الْكَفَنِ صحيح أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ وُضِعَ فِي حُفْرَتِهِ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ لَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1902

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل کفن کی قمیص حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لائے جبکہ اسے لحد میں رکھا جا چکا تھا، آپ قبر پر کھڑے ہوئے اور اسے نکالنے کا حکم دیا۔ اسے (قبر سے) نکالا گیا، پھر آپ نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اسے اپنی قمیص پہنائی اور اس کے منہ میں (یا اس کے جسم پر) اپنا لعابِ مبارک ڈالا۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے (حکمت کیا تھی؟) یہ روایت مشہور روایا ت سے متعارض معلوم ہوتی ہے جن میں قمیص پہلے دینے، جنازہ پڑھنے اور پھر قبر پر جنازے کے ساتھ آنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کا ایک حل یہ پیش کیا ہے کہ پہلی روایت میں دینے سے مراد دینے کا وعدہ ہے، وعدے پر عطیہ کا لفظ بول دیا گیا ہے۔ دوسرا حل اور تطبیق یہ ہے کہ ممکن ہے دو مرتبہ آپ نے قمیص دی ہو، ایک پہلے اور دوسری مرتبہ جب آپ قبر پر حاضر ہوئے۔ مزید دیکھیے: (فتح الباري الجنائز، باب الکفن في القمیص الذی یکف أولا یکف، حدیث: ۱۲۷۰) واللہ أعلم۔