سنن النسائي - حدیث 190

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ الْغُسْلُ مِنْ مُوَارَاةِ الْمُشْرِكِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ نَاجِيَةَ بْنَ كَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ فَقَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ قَالَ إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا قَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ فَلَمَّا وَارَيْتُهُ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي اغْتَسِلْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 190

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ مشرک کی لاش دبانے کے بعد غسل کرنا چاہیے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: ابو طالب فوت ہوگئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’جاؤ اسے دبا آؤ۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بلاشبہ وہ مشرک فوت ہوئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’جاؤ اسے دبا آؤ۔‘‘ جب میں نے انھیں دبا دیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: ’’غسل کرو۔‘‘ (۱) اس روایت سے صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ ابوطالب کفر و شرک پر فوت ہوئے۔ بیٹے اور بھتیجے سے بڑھ کر کس کی گواہی معتبر ہے؟ (۲) اگر کوئی شخص کفر و شرک پر فوت ہوا ہو تو اس کے مسلمان ورثاء پر یہ حکم عائد ہوتا ہے کہ اس کی لاش کو دفنا دیں لیکن اس کے کفن دفن میں اسلامی طریقۂ کار اختیار نہ کیا جائے بلکہ غیرمسنون طریقے سے دھونے اور ڈھانپنے کے بعد اس کی لاش کو دبا دیا جائے۔ مسنون وضو، غسل، مسنون کفن، قبلے رخ اور دعاؤں وغیرہ سے اجتناب کیا جائے۔ (۳) چونکہ کافر پلید ہے، مرنے کے بعد مزید پلید ہو جاتا ہے، لہٰذا اسے نہلانے اور دبانے کے بعد غسل کیا جائے تاکہ جو چھینٹے جسم یا کپڑوں پر پڑے ہیں، ان کا ازالہ ہو جائے۔ اکثر اہل علم نے اس غسل کو استحباب پر محمول کیا ہے مگر غسل کی علت کا لحاظ کیا جائے، خصوصاً جبکہ غسل کرنے کا حکم بھی ہے تو اسے واجب کہنا ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔ واللہ أعلم۔ (۴) اپنے قریبی رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے اگرچہ وہ کافر ہی ہوں۔