سنن النسائي - حدیث 188

ذِكْرُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ غُسْلُ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَغَرِّ وَهوَ ابْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 188

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ جب کافر مسلمان ہو تو غسل کرے حضرت قیس بن عاصم سے منقول ہے کہ وہ مسلمان ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کریں۔ (۱) یہ غسل جمہور اہل علم کے نزدیک مستحب ہے تاکہ اسے احساس ہو کہ میں اندرونی اور بیرونی طور پر دونوں طرح کی نجاست اور میل کچیل سے پاک صاف ہوگیا ہوں بلکہ بعض روایات کے مطابق حجامت اور ختنے کرانے کا بھی حکم ہے، نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کلیب رضی اللہ عنہ کو، جب وہ مسلمان ہوئے، حکم فرمایا: [ألق عنک شعر الکفر] ’’اپنے سے کفر کے بال اتار دو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور صحابی کو حکم فرمایا: [ألق عنک شعر الکفر و اختتن] ’’اپنے سے کفر کے بال زائل کرو (حجامت کراؤ) اور ختنہ کراؤ۔‘‘ (سنن أبي داود، الطھارۃ، حدیث: ۳۸۳) شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (صحیح سنن أبي داود (مفصل) للألباني، رقم: ۳۸۳) اور کپڑے بھی تبدیل کروائے جائیں تاکہ اسے مکمل طور پر تبدیلی کا احساس ہو اوروہ اپنے آپ کو کفر کی آلودگی سے پاک محسوس کرے۔ میل کچیل بھی دور ہو جائے گی۔ (۲) بیری کے پتے میل کچیل دور کرنے کے لیے ہی ہیں۔ آج کل صابن یہ کام دے سکتا ہے۔ (۳) امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ غسل واجب ہے، اس لیے کہ آپ نے اس کا حکم فرمایا اور حکم وجوب کا تقاضا کرتا ہے اور کافر عام طور پر غسل جنابت نہیں کرتے، کریں بھی تو صحیح نہیں کرتے، لہٰذا وہ جنبی ہی رہتے ہیں، اس لیے پاک ہونے کے لیے غسل واجب ہے۔ حدیث کے ظاہر الفاظ بھی ان کے مؤید ہیں، اس لیے وجوب غسل کا موقف ہی قوی ہے۔ واللہ أعلم۔