سنن النسائي - حدیث 1870

كِتَابُ الْجَنَائِزِ الْأَمْرُ بِالِاحْتِسَابِ وَالصَّبْرِ عِنْدَ نُزُولِ الْمُصِيبَةِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1870

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل مصیبت کی آمدکے وقت ثواب طلب کرنےکی نیت اور صبر کرنےکا حکم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صبر پہلی چوٹ کے وقت ہے۔‘‘ مقصد یہ ہے کہ سوگ اور جزع فزع ہمیشہ تو نہیں رہ سکتے، آخر کار وہ ختم ہ ہی جائیں گے، مگر اسے صبر نہیں کہتے، صبر تو یہ ہے کہ انسان مصیبت کے ابتدائی وقت میں اپنے آپ کو شرعی احکام اور انسانی وقار کا پابند رکھے، اور یہی مشکل کام ہے، ثواب بھی اسی صبر کا ہے، رو پیٹ کر صبر کیا تو وہ کیا صبر ہے؟ بالآخر تو صبر کرنا ہی پڑتا ہے، لیکن یہ شریعت والا صب نہیں ہے، یہ تو مجورب یہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ اجر و ثواب صرف اسی صبر میں ہے جو آزمائش اور غم کے وقت کیا جائے، نہ کہ اس کے بعد والے صبر پر۔