سنن النسائي - حدیث 1862

كِتَابُ الْجَنَائِزِ السَّلَق صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَوْفٍ عَنْ خَالِدٍ الْأَحْدَبِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ كَمَا بَرِئَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَلَا خَرَقَ وَلَا سَلَقَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1862

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل سلق (چینخ وپکار کرنا) حضرت صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بے ہوش ہوگئے تو گھر والے ان پر رونے لگ گئے۔ (ہوش میں آنے کے بعد) انھوں نے فرمایا: میں تمھارے اس فعل سے براءت کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس سے براءت فرمائی تھی: ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو (مصیبت کے موقع پر) بال منڈوائے، کپڑے پھاڑے اور چیخ و پکار کرے۔‘‘ (۱)بعض حضرات نے سلق کے معنی رخسار پیٹنا بھی کیے ہیں۔ (۲) اگرچہ گھر والے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی بے ہوشی پر روئے تھے مگر انھیں خدشہ ہوا کہ یہ میری وفات پر بھی روئیں گے، اس لیے تنبیہ فرمائی ……… رضي اللہ عنہ وأرضاہ………