سنن النسائي - حدیث 1859

كِتَابُ الْجَنَائِزِ النِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ صحيح أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ لَمَّا هَلَكَتْ أُمُّ أَبَانَ حَضَرْتُ مَعَ النَّاسِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَبَكَيْنَ النِّسَاءُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَلَا تَنْهَى هَؤُلَاءِ عَنْ الْبُكَاءِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ رَأَى رَكْبًا تَحْتَ شَجَرَةٍ فَقَالَ انْظُرْ مَنْ الرَّكْبُ فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَقَالَ عَلَيَّ بِصُهَيْبٍ فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ أُصِيبَ عُمَرُ فَجَلَسَ صُهَيْبٌ يَبْكِي عِنْدَهُ يَقُولُ وَا أُخَيَّاهُ وَا أُخَيَّاهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ لَا تَبْكِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ أَمَا وَاللَّهِ مَا تُحَدِّثُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَاذِبَيْنِ مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرْآنِ لَمَا يَشْفِيكُمْ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1859

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل میت پرنوحہ کرنا حضرت ابن ابی ملیکہ نے کہا: جب ( حضرت عثمان ؓ کی بیٹی ) ام ابان فوت ہوئیں تو میں بھی لو گو ں کے ساتھ ( ان کے گھر ) گیا ۔ مجھے حضرت عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس ؓ کے قریب بیٹھنے کا مو قع ملا ۔ عورتیں رونے لگیں تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا :کیا آپ نے انھیں رونے سے نہیں روکتے؟ بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فر ماتے سنا ہے : " میت کو اس کے گھر و الوں کے اس پر بعض ( مخصو ص قسم کے ) رونے کی وجہ سے عذاب ہو تا ہے ۔" حضرت ابن عباس فرمانے لگے: حضرت عمر ؓ بھی ایسی ہی بات کہتے تھے ۔ میں ایک دفعہ حضرت عمر ؓ کے ساتھ سفر میں نکلا حتی کہ جب ہم بیدا ر کے مقام پر پہنچے تو حضرت عمر ؓ نے ایک درخت کے نیچے ایک قافلہ دیکھا تو فرمایا : جاو، دیکھو یہ قافلے والے کون ہیں ؟ میں گیا رتو وہ حضرت صہیب ؓ اور ان کے گھر والے تھے۔ میں نے واپس آکر بتا یا : امر المو منین! وہ صہیب ؓ اور ان کے گھر والے ہیں ۔ فرمایا : صہیب کو میرے پاس لاو ، پھر ہم جب مدینہ منورہ آئے تو ( چند دن بعد) حضرت عمر ؓ پر قاتلانہ حملہ ہو گیا ۔ حضرت صہیب ؓ ان کے پاس بیٹھ کر رونے لگے اور کہنے لگے: ہائے میرے پیارے بھائی ْ! ہائے میرے پیا رے بھائی ! حضرت عمر ؓ نے فر ما یا : صہیب ! نہ رو ، کیو نکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے :" میت کو اس کے گھر والو ں کے اس پر بعض ( مخصوص قسم کے) رونے کی بنا پر عذاب دیا جاتا ہے ۔"حضرت ابن عباس ؓ نے کہا: میں نے یہ بات حضرت عائشہ ؓ سے ذکر کی تو فرمانے لگیں : اللہ کی قسم ! تم یہ حدیث کسی جھوٹے اور جھوٹ کی طرف منسوب اشخاص سے بیان نہیں کرتے لیکن سننے میں غلطی لگ جاتی ہے ۔ تمھارے لیے قرآن مجید میں اس کا شافی حل موجو د ہے (لا تزر وازرۃ وزر اخری ) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کابوجھ نہیں اٹھائے گا۔ "لیکن رسو ل اللہ ﷺ نے یو ں فر مایا تھا :" اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب میں اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے اضافہ فرما تا ہے ۔" تفصیلی بحث پیچھے حدیث نمبر ۱۸۵۱ میں گزر چکی ہے۔