سنن النسائي - حدیث 1820

كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَاب تَمَنِّي الْمَوْتِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعِيشَ يَزْدَادُ خَيْرًا وَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1820

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل موت کی تمنا کرنا (کیسا ہے)؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کئوی شخص موت کی خواہش نہ کرے۔ اگر وہ نیک ہے تو شاید مزید زندہ رہ کر اور نیکیاں کرے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اور اگر وہ برا ہے تو شاید وہ اپنے اللہ کو راضی کرلے۔‘‘ موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ کسی کے مانگنے یا روکنے سے موت آگے پیچھے نہیں ہوسکتی تو پھر کیا فائدہ ایسی چیز مانگنے کا جو مانگنے سے مل نہیں سکتی بلکہ اس کا وقت مقرر ہے۔ اس کے بجائے وہ میسر زندگی کو نیکی کے اضافے اور توبہ و مغفرت کے لیے استعمال کرے کیونکہ یہ چیزیں اس کے اختیار میں ہیں۔ انسان اپنی اختیاری چیزوں کی فکر کرے، غیراختیاری چیزوں کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دے۔