سنن النسائي - حدیث 1790

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب كَمْ يُصَلِّي مَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ مَنَعَهُ وَجَعٌ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنْ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1790

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل جوشخص رات کی معمول کی نماز سے سویا رہا یا کسی تکلیف کی وجہ سے نہ پڑھ سکاتو وہ دن کو کتننی رکعت پڑھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نفل نماز نہ پڑھ سکتے، یعنی نیند یا تکلیف کا غلبہ ہو جاتا تو دن کو بارہ رکعات پڑھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً گیارہ رکعات پڑھتے تھے، لیکن جب کبھی مذکورہ وجوہات کی بنا پر رات کی یہ نماز نہ پڑھ سکتے تو دن کے وقت گیارہ کی بجائے ایک رکعت کا اضافہ فرما کر ان کو جفت بنا لیتے اور بارہ رکعات پڑھ لیتے۔ اگر گیارہ کی بجائے دس پڑھتے تو نوافل میں کمی رہ جاتی لیکن آپ نے کمی کو پسند نہیں فرمایا۔