سنن النسائي - حدیث 1720

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب كَيْفَ الْوِتْرُ بِسَبْعٍ صحيح أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوْتَرَ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّي السَّابِعَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1720

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل سات وتر کیسے پڑ ھیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نو رکعت وتر پڑھتے تو (تشہد کے لیے) آٹھویں رکعت سے پہلے کسی رکعت میں نہ بیٹھتے تھے۔ آٹھویں میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی حمدا ور س کا ذکر فرماتے اور دعائیں کرتے (یعنی تشہد پڑھتے) پھر سلام پھیرے بغیر اٹھ کھڑے ہوتے، پھر نویں رکعت پڑھ کر بیٹھتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے اور دعائیں کرتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہمیں سنائی دیتا تھا، پھر بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے، پھر جب بوڑھے اور کمزور ہوگئے تو سات رکعات پڑھتے تھے اور چھٹی کے سوا کسی رکعت میں (تشہد کے لیے) نہ بیٹھتے پھر (چھٹی میں بیٹھ کر) اٹھ کھڑے ہوتے اور سلام نہ پھیرتے، پھر ساتویں پڑھ کر بیٹھتے، پھر سلام پھیرتے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے۔ (۱)معلوم ہوا سات وتر پڑھنے کے دو طریقے ہیں۔ ہر رکعت کے بعد بغیر بیٹھے کھڑا ہوتا رہے، صرف ساتویں میں بیٹھے یا چھٹی اور ساتویں دونوں میں بیٹھے مگر سلام ساتویں ہی پر پھیرے۔ دونوں طریقے جائز ہیں اور یہی ان دو روایتوں میں تطبیق ہے کہ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلا طریقہ اختیار فرماتے، کبھی دوسرا۔ (۲)وتر کے بعد دو رکعت کا مسئلہ دیکھیے حدیث نمبر: ۱۶۵۲ اور اس کا فائدہ۔