سنن النسائي - حدیث 1717

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب كَيْفَ الْوِتْرُ بِخَمْسٍ وَذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى الْحَكَمِ فِي حَدِيثِ الْوِتْرِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ الْوِتْرُ سَبْعٌ فَلَا أَقَلَّ مِنْ خَمْسٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ عَمَّنْ ذَكَرَهُ قُلْتُ لَا أَدْرِي قَالَ الْحَكَمُ فَحَجَجْتُ فَلَقِيتُ مِقْسَمًا فَقُلْتُ لَهُ عَمَّنْ قَالَ عَنْ الثِّقَةِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَنْ مَيْمُونَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1717

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل پا نچ وتر کیسے پڑھیں ؟ اور حدیث وتر میں حکم کےشا گر دوں کے اختلاف کاذکر حضرت حکم حضرت مقسم سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا: وتر سات ہیں اور پانچ کم تو قطعاً نہیں۔ میں نے یہ بات حضرت ابراہیم نخعی سے ذکر کی تو انھوں نے کہا: مقسم نے یہ بات کس سے نقل کی ہے؟ میں نے کہا: مجھے تو علم نہیں۔ حکم کہتے ہیں: میں حج کے لیے گیا تو مقسم سے ملا اور ان سے پوچھا کہ وہ روایت آپ کس سے بیان کرتے ہیں؟ وہ کہنے لگے: ثقہ اور معتبر اشخاص سے۔ حضرت عائشہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما سے۔ حضرت مقسم نے دراسل حضرت عائشہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما کی روایات سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے نہ کہ ان سے صراحتاً منقول ہے۔ حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایات تین اور ایک وتر کی پیچھے گزر چکی ہیں، نیز یہ کسی بھی فقیہ یا محدث کا مسلک نہیں۔ علاوہ ازیں یہ روایت سنداً ضعیف بھی ہے۔ مزید دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی شرح سنن النسائی:۱۸؍۸۸۔۹۱)