سنن النسائي - حدیث 1714

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب ذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ فِي الْوِتْرِ صحيح الإسناد قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ مَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْمَأَ إِيمَاءً

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1714

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل وتر کے بارے میں حضرت ابو ایوب کی حدیث اس میں زہری کےشا گردوں کا اختلاف حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص چاہے سات وتر پڑھ لے، جو شخص چاہے پانچ وتر پڑھ لے، جو شخص چاہے تین وتر پڑھ لے ور جو شخص چاہے ایک وتر پڑھ لے۔ اور جو شخص چاہے (یعنی مجبور ہو) وہ اشارے سے پڑھ لے۔ (۱)اختلاف یہ ہے کہ پہلی دو روایات میں مذکورہ الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں اور آخری دو روایات میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کی طرف ۔ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور پھر سائلین کو حدیث کے مطابق فتویٰ دیا، لہٰذا ان میں کوئی تعارض نہیں۔ اس طرح حدیث موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح صحیح ہے۔ (۲)’’وتر حق ہے‘‘ احناف اس لفظ سے وتر کے وجوب پر استدلال کرتے ہیں جبکہ حق کے معنی مؤکد بھی ہوتے ہیں اور یہاں یہی معنی مناسب ہیں تاک دوسری احادیث کے خلاف نہ پڑیں جو پیچھے گزر چکی ہیں، نیز لطیفہ یہ ہے کہ اسی روایت میں وتر کے ایک ہونے کا بھی صریح جواز ہے مگر احناف اس کے قائل نہیں۔ متحمل الفاظ سے استدلال اور صریح الفاظ سے اعراض حق پسندی نہیں۔ (۳)’’اشارے سے پڑھ لے‘‘ ایک نسخے میں [من شاء] کے بجائے [من غلب] کے لفظ ہیں، یعنی جو قیام و قعود سے مغلوب ہو، وہ اشارے سے پڑھ لے۔ جمہور علماء اسےمریض پر محمول کرتے ہیں کہ جو کھڑا ہونے اور بیٹھنے کی طاقت نہ رکھت ہو۔ واللہ اعلم۔ مزید دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی شرح سنن النسائی:۱۸؍۸۶)