سنن النسائي - حدیث 1710

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْوِتْرِ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ تِسْعًا فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ صَلَّى سَبْعًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1710

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل وتر کے بارے حضرت ابن عبا س کی ایک اور روایت اس میں حبیب بن ابی ثابت کے شا گردوں کا اختلاف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعت پڑھتے تھے۔ جب آپ بوڑھے اور بوجھل ہوگئے تو سات پڑھنے لگے۔ (۱)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول گیارہ کا تھا۔ جن روایات میں تیر ہ رکعات کا ذکر ہے ان میں عشاء یا فجر کی دو سنتیں یا قیام اللیل سے قبل کی افتتاحی دورکعتیں شامل ہیں۔ جب آپ کچھ بوڑھے ہوئے تو نو شروع کردیں۔ مزید بوڑھے ہوئے تو سات پڑھنے لگے۔ اس طرح کوئی اختلاف نہیں۔ (۲)ان تینوں روایتوں (۱۷۰۸، ۱۷۰۹ اور ۱۷۱۰) کا راوی ایک ہے یحییٰ بن حزار ان کے کسی شاگرد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما ذکر کیا، کسی نے ام سلمہ کا اور کسی نے عائشہ کا۔ یہ اختلاف بتانا مقصود ہے۔