سنن النسائي - حدیث 17

ذِكْرُ الْفِطْرَةِ الْإِبْعَادُ عِنْدَ إِرَادَةِ الْحَاجَةِ حسن صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ قَالَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ ائْتِنِي بِوَضُوءٍ فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ الشَّيْخُ إِسْمَعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَارِئُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 17

کتاب: امور فطرت کا بیان قضائے حاجت کے لیے دور جانا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو دور جاتے۔ انھوں نے کہا: ایک دفعہ آپ ایک سفر میں تھے کہ قضائے حاجت کے لیے گئے تو مجھ سے فرمایا: ’’میرے پاس وضو کے لیے پانی لاؤ۔‘‘ میں پانی لایا تو آپ نے وضو فرمایا اور موزوں پر مسح کیا۔ شیخ ابن سنی رحمہ اللہ نے فرمایا: (سند میں مذکور راوی) اسماعیل سے مراد (اسماعیل القاری) ابن جعفر بن ابوکثیر ہیں۔ (۱) یہ مقولہ شیخ ابن سنی کے کسی شاگرد کا ہے۔ شیخ ابن سنی، امام نسائی رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں جنھوں نے امام صاحب سے سنن نسائی کا یہ نسخہ نقل کیا اور آگے بیان فرمایا۔ (۲) قضائے حاجت کے لیے آبادی سے باہر جانا یا بند کمرہ (لیٹرین) استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ لوگوں کی نگاہوں سے دور ہو، انھیں بدبو محسوس نہ ہو اور بیماریاں نہ پھیلیں۔ قضائے حاجت کی آواز کا سنائی دینا بھی معیوب ہے۔ آج کل لیٹرینیں اگرچہ گھروں کے اندر ہوتی ہیں، مگر وہ ان تمام مقاصد کو بطریق احسن پورا کرتی ہیں جو دور جانے سے مقصود ہیں، لہٰذا ان کا استعمال بطریق اولیٰ درست ہے۔