سنن النسائي - حدیث 1666

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب تَسْوِيَةِ الْقِيَامِ وَالرُّكُوعِ وَالْقِيَامِ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ثِقَةٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَرَكَعَ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ جَلَسَ يَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا فَمَا صَلَّى إِلَّا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى جَاءَ بِلَالٌ إِلَى الْغَدَاةِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدِي مُرْسَلٌ وَطَلْحَةُ بْنُ يَزِيدَ لَا أَعْلَمُهُ سَمِعَ مِنْ حُذَيْفَةَ شَيْئًا وَغَيْرُ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1666

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل رات کی نماز (تہجد )میں قیام ‘رکوع ‘رکوع کے بعدقومہ‘ سجدہ اور سجدوں کے درمیان بیٹھنا سب کا برابر ہو نا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (تہجد کی) نماز پڑھی۔ آپ نے رکوع فرمایا اور رکوع میں اتنی دیر [سبحان ربی العظیم] پڑھتے رہے جتنی دیر قیام فرمایا تھا، پھر (سجدے کے بعد) بیٹھے، اتنی دیر [رب اغفرلی! رب اغفرلی] ’’اے میرے رب! مجھے معاف فرما، اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔‘‘کہتے رہے، جتنی دیر قیام فرمایا تھا، پھر سجدہ فرمایا تو اتنی دیر [سبحان ربی الاعلیٰ] کہتے رہے، جتنی دیر کھڑے رہے تھے۔ اس طرح آپ نے صرف چار رکعات پڑھیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کی اطلاع دینے آگئے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے۔ میں نہیں جانتا کہ طلحہ بن یزید نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کوئی روایت سنی ہو۔ علاء بن مسیب کے علاوہ دوسرے راویوں نے طلحہ اور حضرت حذیفہ کے درمیان ایک آدمی کا واسطہ ذکر کیا ہے۔ (۱)یہاں مرسل سے منقطع مراد ہے۔ اصطلاحی معنی مراد نہیں۔ علم حدیث میں مرسل کے اصطلاحی معنی یہ ہے کہ تابعی براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل بیان کرے۔ مذکورہ روایت میں تو وہ براہ راست بیان نہیں کررہے بلکہ صحابی کا ذکر موجود ہے۔ (۲)معلوم ہوا نماز میں دوران قراءت، دعاواستغفار وغیرہ کیا جاسکتا ہے بلکہ کرنا چاہیے، نہ کہ خالی قراءت کرتا رہے۔ جس طرح سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کرنا مستحب ہے ایسے ہی موقع محل کے لحاظ سے تسبیح، دعا اور تعوذ بھی ہونا چاہیے، نیز ایک ہی آیت یا تسبیح یا دعا کو نماز میں با ربار دہرایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے کسی خصوصی نقل کی ضرورت نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات قیام میں صرف ایک آیت (ان تعذبھم فانھم عبادک ۔۔۔) پر اکتفا کیا اور اسے ہی بار بار دہراتے رہے۔