سنن النسائي - حدیث 1661

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ فَضْلُ صَلَاةِ الْقَاعِدِ عَلَى صَلَاةِ النَّائِمِ صحيح أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الَّذِي يُصَلِّي قَاعِدًا قَالَ مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1661

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل بیٹھ کر نمازپڑھنے والےکی لیٹ کر نمازپڑھنے والے پر فضیلت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر (نفل) نماز پڑھنے والے کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ’’جو کھڑا ہوکر نفل نماز پڑھے تو وہ افضل (زیادہ ثواب والا) ہے اور جو بیٹھ کر پڑھے، اس کو کھڑے ہوکر پڑھنے والے سے نصف ثواب ملے گا اور جو لیٹ کر پڑھے، اسے بیٹھ کر پڑھنے والے سے بھی نصف ثواب ملے گا۔‘‘ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نفل نماز بیٹھ کر اور لیٹ کر بلاعذر پڑھی جاسکتی ہے۔ لیکن جو بیٹھ کر پڑھے اسے کھڑے ہوکر پڑھنے والے سے نصف ثواب ملے گا اور جو لیٹ کر پڑھے اسے بیٹھ کر پڑھنے والے سے بھی نصف ثواب ملے گا، تاہم عذر کی بنا پر پورا ثواب ملے گا۔