سنن النسائي - حدیث 1660

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب فَضْلِ صَلَاةِ الْقَائِمِ عَلَى صَلَاةِ الْقَاعِدِ صحيح أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا فَقُلْتُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ إِنَّ صَلَاةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا قَالَ أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1660

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل کھڑےہو کر (نفل )نماز پڑ ھنے والے کی بیٹھ کرپڑھنے والےپرفضیلت حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے کہاُ: مجھ سے یہ تو بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: ’’بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والے سے نصف ثواب ملتا ہے۔‘‘ اب آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’بات صحیح ہے، مگر میں تم جیسا نہیں۔‘‘ (۱)’’میں تم جیسا نہیں‘‘ یعنی مجھے بیٹھ کر بھی پورا ثواب ہی ملتا ہے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی شان ہے۔ یہ مفہوم بھی مراد ہوسکتا ہے کہ میں عذر کی بنا پر بیٹھ کر پڑھتا ہوں اور نصف ثواب اس کو ہے جو بلاعذر بیٹھ کر نوافل پڑھے، نیز آپ جوانی میں کھڑے ہوکر ہی نوافل پڑھا کرتے تھے۔ جو شخص جوانی میں ایک نیکی کرتا تھا مگر بڑھاپے کی بنا پر اسے نہ کرسکا تو اسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی وجہ سے پورا اجر دیتا ہے۔ (۲)کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی قدرت ہونے کے باوجود نفلی نماز بیٹھ کر جائز ہے لیکن یاد رہے ثواب نصف ملے گا۔