سنن النسائي - حدیث 1654

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب صَلَاةِ الْقَاعِدِ فِي النَّافِلَةِ وَذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى أَبِي إِسْحَقَ فِي ذَلِكَ صحيح أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ قَالَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ خَالَفَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ وَقَالَا عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1654

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل نفل نماز بیٹھ کر پڑ ھی جاسکتی ہے‘ نیز ابو اسحاق کے شاگردوں کے اختلاف کاذکر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے قریب فرض نماز کے علاوہ نماز اکثر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ شعبہ اور سفیان نے یونس کی مخالفت کی ہے، انھوں نے یہ روایت عن ابی اسحاق عن ابی سلمۃ عن ام سلمۃ کی سند سے بیان کی ہے۔ عمر بن زائدہ اور یونس نے ابواسحاق کا استاد اسود بتایا تھا جبکہ شعبہ اور سفیان نے ابواسحاق کا استاد ابوسلمہ بتایا ہے، البتہ یہ روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہی کی بتائی ہوئی ہے۔