سنن النسائي - حدیث 164

صِفَةُ الْوُضُوءِ الْوُضُوءُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ ذَكَرَ مَرْوَانُ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّهُ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ إِذَا أَفْضَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ بِيَدِهِ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَقُلْتُ لَا وُضُوءَ عَلَى مَنْ مَسَّهُ فَقَالَ مَرْوَانُ أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ قَالَ عُرْوَةُ فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِي مَرْوَانَ حَتَّى دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِهِ فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا عَمَّا حَدَّثَتْ مَرْوَانَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بُسْرَةُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهَا مَرْوَانُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 164

کتاب: وضو کا طریقہ عضو مخصوص کو چھونے سے وضو(ٹوٹ جاتا ہے) حضرت عمرو بن زبیر سے منقول ہے، انھوں نے کہا: مروان نے مدینے کی امارت (گورنری) کے دوران میں ذکر کیا کہ جب آدمی اپنا ہاتھ عضو مخصوص کو لگائے تو اسے اس کے بعد وضو کرنا چاہیے۔ میں نے اس کا انکار کیا اور کہا: جس نے اپنے عضو مخصوص کو ہاتھ لگایا اس پر کوئی وضو نہیں ہے۔ تو مروان نے کہا کہ مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا جن سے وضو کرنا پڑتا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عضو مخصوص کو چھونے سے بھی وضو کرے۔‘‘ عروہ نے کہا کہ میں مروان سے بحث کرتا رہا حتی کہ اس نے اپنے محافظ دستے سے ایک آدمی بلایا اور اسے بسرہ کے پاس بھیجا۔ اس نے ان سے اس روایت کےے بارے میں سوال کیا جو انھوں نے مروان کو بیان کی تھی تو حضرت بسرہ رضی اللہ عنہا نے وہی روایت سنا کر بھیجا جو مروان نے مجھے ان کے نام سے بیان کی تھی۔ (۱) [أقضی إلیہ بیدہ] کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مس ذکر سے وضو واجب ہوتا ہے، بشرطیکہ ہاتھ اور عضو تناسل دونوں ننگے ہوں۔ (۲) مروان حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینے کے گورنر تھے، علمی شخصیت تھے، محدثین کے نزدیک ثقہ راوی ہیں۔ عمر کے لحاظ سے بعض صحابہ کے برابر تھے مگر طائف میں رہنے کی وجہ سے روایت کا شرف حاصل کرنے سے محروم رہے۔ یزید کی وفات کے بعد خلیفہ بھی بنے بلکہ بنو امیہ کے دور خلافت کے خاتمے تک ان کی اولاد ہی خلافت کرتی رہی۔ چونکہ یہ سیاست میں آگئے تھے، اس لیے متنازعہ شخصیت بن گئے۔