سنن النسائي - حدیث 163

صِفَةُ الْوُضُوءِ الْوُضُوءُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ صحيح أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَعْنٌ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ فَقَالَ مَرْوَانُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ الْوُضُوءُ فَقَالَ عُرْوَةُ مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ فَقَالَ مَرْوَانُ أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 163

کتاب: وضو کا طریقہ عضو مخصوص کو چھونے سے وضو(ٹوٹ جاتا ہے) حضرت عمرو بن زبیر سے مروی ہے، انھوں نے کہا: میں مروان بن حکم کے پاس گیا، چنانچہ ہم نے آپس میں ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو واجب ہوتا ہے۔ مروان نے کہا: شرم گاہ کو چھونے سے بھی وضو واجب ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا: مجھے تو اس بات کا علم نہیں۔ مروان نے کہا: مجھے حضرت بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’جب تم میں سے کوئی اپنی شرم گاہ (عضو) کو چھو بیٹھے تو اسے چاہیے کہ وضو کرے۔‘‘ عضو مخصوص یا شرم گاہ کی نوعیت ایسی نہیں ہے کہ اس جگہ ہاتھ لگانے کے بعد اس ہاتھ کو کھانے یا قراءت قرآن یا نماز کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایسا کرنا فطرت سلیمہ کے خلاف ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہاتھ لگنے کے بعد وضو کیا جائے، بشرطیکہ کپڑے کے بغیر ہاتھ لگے۔ بعض حضرات نے شہوت اور غیرشہوت میں فرق کیا ہے، یعنی اگر کپڑے کے اوپر سے شہوت کی حالت ہاتھ لگائے، تب وضو ٹوٹتا ہے جبکہ جمہور اہل علم کے نزدیک اگر کپڑے کے اوپر سے ہاتھ لگے تو وضو نہیں ٹوٹتا اور اگر کپڑے وغیرہ کے بغیر ننگے عضو پر ہاتھ لگ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن احناف کسی صورت میں بھی وضو کے قائل نہیں۔ ان کی دلیل آگے (حدیث: ۱۶۵) آ رہی ہے۔