سنن النسائي - حدیث 1620

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب ذِكْرِ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الْقِيَامُ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَحْوَلِ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ حَقٌّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَبِكَ آمَنْتُ ثُمَّ ذَكَرَ قُتَيْبَةُ كَلِمَةً مَعْنَاهَا وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1620

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل قیام اللیل کےآ غازکی دعائیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: (اللھم لک الحمد۔۔۔ولاقوۃ الا باللہ) ’’اے اللہ! تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔ اور ان لوگوں کا نور ہے جو ان میں ہیں، اور تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو آسمانوں وزمین اور ان کے مابین تمام لوگوں کو قائم رکھنے والا ہے۔ اور تیرے یہ لیے سب تعریف ہے۔ تو آسمانوں، زمینوں اور ان میں رہنے والوں کا بادشاہ ہے اور تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو برحق ہے۔ تیرے وعدے برحق ہیں۔ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے، اور قیامت حق ہے، اور تمام نبی حق ہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) بھی حق ہیں۔ میں تیرا ہی مطیع و فرماں بردار ہوا اور تجھی پر میں نے بھروسا کیا اور تجھی پر میں ایمان لایا اور تیری ہی مدد سے میں (کفار سے) جھگڑتا ہوں اور تیرے حضور ہی فیصلہ پیش کرتا ہوں۔ مجھے معاف فرما، وہ گناہ جو میں نے کرلیے ہیں اور جو ابھی نہیں کیے اور جو میں نے خفیہ کیے ہیں اور جو علانیہ کیے ہیں۔ تو ہی کسی کو آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ نقصان سے بچنے کا حیلہ ہے اور نہ فائدہ حاصل کرنے کی طاقت۔‘‘ (۱)’’نور ہے‘‘ یعنی آسمانوں اور زمینوں میں نور پیدا کرنے والا ہے۔ یا تو بے عیب ہے یا تو آسمانوں اور زمینوں کی زینت ہے۔ (۲)’’تو برحق ہے‘‘ یعنی صرف تیرا وجود حقیقی ہے، باقی تو کالعدم (بت) ہیں یا تیرا وجود اور توحیدحقیقت ہے۔ (۳)’’جو ابھی نہیں کیے‘‘ مگر بعد میں ہوں گے،بعد میں ہونے والے گناہوں کی معافی مانگنے میں کوئی استحالہ نہیں کیونکہ ان کا ہونا طبعی بات ہے۔ (۴)’’نہ فائدہ حاصل کرنے کی طاقت‘‘ اس میں ہر نقصان اور فائدہ داخل ہے، مثلاً: گناہ، نیکی اور دیگر دنیوی و اخروی نقصانات و فوائد۔ (۵)’’آگے پیچھے کرنے والا‘‘ یعنی مرتبہ اور شان بڑھانے اور گھٹانے والا ہے یا موت و حیات کے لحاظ سے یا عزت و ذلت کے لحاظ سے یا ہدایت اور گمراہی کے لحاظ سے۔ یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ تو سب سے اول اور سب سے آخر ہے۔ (۶)اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں یہ حدیث انتہائی جامع ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی وصف بھی ان اوصاف سے خارج نہیں۔