سنن النسائي - حدیث 1617

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب وَقْتِ الْقِيَامِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ عَنْ بِشْرٍ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الدَّائِمُ قُلْتُ فَأَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَقُومُ قَالَتْ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1617

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل قیام اللیل (تہجد) کا وقت حضرت مسروق سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا عمل زیادہ پسند تھا؟ انھوں نے فرمایا: جو ہمیشہ کیا جائے (خواہ کم ہی ہو) میں نے کہا: آپ رات کو کس وقت تہجد کے لیے اٹھتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: جب مرغ کی (پہلی) آواز سنتے۔ (۱)مرغ عموماً آدھی رات کے بعد آواز نکالتا ہے۔ بعض دوسری روایات میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات تک سوتے، پھر تہائی رات جاگتے (نمازپڑھتے) اور، پھر آخری سدس (چھٹا حصہ) سوتے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، التھجد، حدیث:۱۱۳۱، وصحیح مسلم، الصیام، حدیث:۱۱۵۹) یہ تقسیم عشاء کے بعد سے فجر کی اذان تک کی ہے کیونکہ مسلمانوں کی یہی رات ہے۔ باقی تو جاگنے، یعنی نمازوں کے اوقات ہیں۔ (۲)چونکہ مرغ کی آواز سن کر نیک لوگ نماز کے لیے جاگتے ہیں، لہٰذا اس کی آواز کو لوگ اذان کہہ دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا: مرغ فرشتے دیکھ کر آواز نکالتا ہے، لہٰذا تم مرغ کی آواز سن کر یہ کہا کرو: (اللھم انی اسئلک من فضلک) صحیح البخاری، بدءالخلق، حدیث:۳۳۰۳ و صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث:۲۷۲۹) واہ رے مرغ تیری قسمت! نفلی عبادت میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، تعمق سے کام نہیں لینا چاہیے۔ ورنہ آدمی اکتا جاتا ہے اور اس عمل کو جاری نہیں رکھ سکتا۔