سنن النسائي - حدیث 1608

كِتَابُ قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ بَاب التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ عَقَدَ الشَّيْطَانُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ عَلَى كُلِّ عُقْدَةٍ لَيْلًا طَوِيلًا أَيْ ارْقُدْ فَإِنْ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ أُخْرَى فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ الْعُقَدُ كُلُّهَا فَيُصْبِحُ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 1608

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل رات کی نماز (تہجد)کی ترغیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص سوتا ہے تو شیطان اس کے سر پر تین گرہیں لگا دیتا ہے۔ اور ہر گرہ دیتے وقت یہ پڑھتا ہے: لمبی رات ہے، سوجا، پھر اگر وہ جاگ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اگر وہ وضو کرے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر وہ نماز شروع کردے تو تیسرے گرہ بھی کھل جاتی ہے اور وہ خوش دل اور چست و چالاک ہوجاتا ہے ورنہ بددل اور سست رہتا ہے۔‘‘ ’’تین گرہیں‘‘ جب انسان سوتا ہے تو وہ اپنے جسم، طہارت اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے۔ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ انسان غافل ہی رہے اگر اسے جاگ آبھی جائے تو شیطان وساوس کے ذریعے سے اٹھنے نہیں دیتا بلکہ دوبارہ سلا دیتا ہے۔ اگر انسان اللہ کا نام لے کر (ہمت سے) اٹھ بیٹھے تو جسم میں غفلت نہ رہی، وضو کرے تو طہارت حاصل ہوگئی اور نماز شروع کردے تو ذکر الٰہی کے اعلیٰ درجے میں مشغول ہوگیا، لہٰذا ہر قسم کی غفلت دور ہوگئی اور وہ کامل انسان بن گیا۔ جسم میں چستی بھی آگئی اور روح میں تازگی بھی اور اگر وہ سویا رہے یا بستر میں کسمساتا رہے، اٹھنے کی ہمت نہ کرے تو جسم میں چستی آتی ہے نہ روح میں تازگی۔ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کے گرہیں لگانے اور ان کے کھلنے سے تعبیر فرمایا ہے۔ قربان جائیں آپ کی فصاحت و بلاغت پر۔ کیا ہی خوب انداز اختیار فرمایا۔ بعض اہل علم نے اس کلام کو ظاہر معنی پر محمول کیا ہے کہ واقعتاً شیطان گرہیں لگاتا ہے اور ان پر پڑھ کر پھونکتا ہے،پھر یہ کھلتی بھی ہیں مگر یہ سب کچھ ہمیں نظر نہیں آتا۔ بعض اہل علم نے اسے استعارے اور تشبیہ سے تعبیر کیا ہے۔ بہرحال اگر شیطان حقیقتاً گرہیں لگائے او وہ کھلیں تو یہ محال بھی نہیں، اس لیے حق یہ ہے کہ کسی قسم کی تاویل کے بغیر حدیث شریف کے صریح الفاظ کے مفہوم ہی کو تسلیم کیا جائے، یہی ایمان بالغیب کا تقاضا اور سلف اہل علم کا شیوہ ہے۔ واللہ اعلم۔